اہلِ سنت و جماعت کے متفقہ اصول
اہلِ سنت و جماعت کے متفقہ اصول میں سے یہ ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی محبت اور تعظیم ایمان کا حصہ ہے اور ان کی تنقیص و توہین کفر یا بدعتِ یا گمراہ کن یا ضال مضل ہے۔ اس پر علماء اہل سنت کے کئی نصوص موجود ہیں
امام طحاوی رحمہ اللہ تعالیٰ (عقیدۂ طحاویہ)
“ونحب أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا نفرط في حب أحد منهم، ولا نتبرأ من أحد منهم، ونبغض من يبغضهم وبغير الخير يذكرهم، ولا نذكرهم إلا بخير. وحبهم دين وإيمان وإحسان، وبغضهم كفر ونفاق وطغيان.”
(العقيدة الطحاوية، ص: 528)
ہم رسول اللہ ﷺ کے تمام صحابہ سے محبت کرتے ہیں۔ ان میں سے کسی کی محبت میں حد سے آگے نہیں بڑھتے اور نہ کسی سے بیزاری کرتے ہیں۔ ہم ان سے بغض رکھنے والوں اور ان کا برا ذکر کرنے والوں سے بغض رکھتے ہیں۔ ہم ان کا ذکر ہمیشہ خیر کے ساتھ کرتے ہیں۔ ان کی محبت دین، ایمان اور احسان ہے جبکہ ان سے بغض رکھنا کفر، نفاق اور سرکشی ہے۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ
“إذا رأيت رجلاً يذكر أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم بسوء فاتهمه على الإسلام.”
(البدایہ والنہایہ لابن کثیر 8/142)
جب تم دیکھو کہ کوئی شخص رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کا برائی سے ذکر کرتا ہے تو اس کے اسلام پر شک کرو۔
امام ابو زرعہ الرازی رحمہ اللہ تعالیٰ
“إذا رأيت الرجل ينتقص أحداً من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فاعلم أنه زنديق.”
(الكفاية للخطيب البغدادي 97)
جب تم دیکھو کہ کوئی شخص رسول اللہ ﷺ کے کسی صحابی کی تنقیص کرتا ہے تو جان لو کہ وہ زندیق ہے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمہ اللہ تعالیٰ
“جو شخص کسی صحابی یا اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم کی توہین کرے، وہ اہل سنت میں سے نہیں بلکہ بدعتی و گمراہ ہے۔”
(فتاویٰ رضویہ، ج 14، ص 140)
امام مالک رحمہ اللہ تعالیٰ
“من سبَّ أبا بكر و عمر أُدِّب، ومن سبَّ عائشة قُتل، لأن الله يقول فيها: {يعظكم الله أن تعودوا لمثله أبدا إن كنتم مؤمنين} فمن رماها فقد كفر.”
(الشفا للقاضي عياض، 2/267)
جو شخص ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو گالی دے، اسے سزا دی جائے گی، اور جو شخص حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو گالی دے، اسے قتل کیا جائے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی براءت قرآن میں بیان فرمائی ہے۔ پس جو ان پر تہمت لگائے وہ کافر ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ (شارح مسلم)
“اعلم أن سب الصحابة رضي الله عنهم حرام، ومن لعنهم أو سبهم فقد فسق.”
(شرح النووي على مسلم 16/93)
جان لو کہ صحابہ کرام کو گالی دینا حرام ہے، اور جو ان پر لعنت کرے یا ان کو گالی دے وہ فاسق ہے۔
امام ابن حزم اندلسی رحمہ اللہ تعالیٰ
“إن من سبّ أحداً من الصحابة رضي الله عنهم فهو فاسق مبتدع.”
(الفصل في الملل والنحل، 4/148)
جس نے کسی بھی صحابی کو گالی دی وہ فاسق اور بدعتی ہے۔
امام قاضی عیاض رحمہ اللہ تعالیٰ
“وسب أحدهم من المعاصي الكبائر، ومذهبنا ومذهب الجمهور أن من سبهم فسق وعليه التعزير.”
(الشفا بتعريف حقوق المصطفى، 2/110)
کسی ایک صحابی کو برا کہنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے، اور ہمارے اور جمہور کے نزدیک جو انہیں برا کہے وہ فاسق ہے اور اس پر تعزیری سزا واجب ہے۔
علامہ تفتازانی رحمہ اللہ تعالیٰ (شرح العقائد النسفیہ)
“الطعن في الصحابة رضي الله عنهم إما بكفر، أو بفسق، أو ببدعة، وعلى أي تقدير فهو ضلال وابتداع.”
(شرح العقائد النسفية، ص: 196)
صحابہ کرام پر طعن کرنا یا تو کفر ہے، یا فسق ہے، یا بدعت ہے، اور ہر حال میں یہ گمراہی اور بدعت ہے
ابن تیمیہ
“من سبهم أو نقصهم فقد خرج عن الدين ومرق من الإسلام.”
(الصارم المسلول على شاتم الرسول، ص: 580)
جو ان (صحابہ) کو برا کہے یا ان کی تنقیص کرے وہ دین سے خارج اور اسلام سے مرتد ہے۔
(اہل بیت کی عزت و احترام)

إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا
(الأحزاب: 33)
اللہ تعالیٰ بس یہی چاہتا ہے کہ اے اہلِ بیت! تم سے ہر ناپاکی کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے۔
اس آیت سے اہلِ بیت کی عظمت و طہارت ثابت ہے، لہٰذا ان کی تنقیص قرآن کے خلاف ہے۔
حدیثِ نبوی ﷺ (مشہور حدیثِ ثقلین)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“إني تارك فيكم الثقلين كتاب الله وعترتي أهل بيتي، ما إن تمسكتم بهما لن تضلوا بعدي.”
(سنن الترمذي 3786، المستدرك للحاكم 4711)
میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں: اللہ کی کتاب اور میری عترت اہلِ بیت۔ جب تک تم ان دونوں کو تھامے رکھو گے ہرگز گمراہ نہ ہو گے۔
امام فخر الدین رازی رحمہ اللہ تعالیٰ (تفسیر کبیر)
“اعلم أن شرف أهل البيت مما لا يمكن إنكاره، ويدل عليه قوله تعالى: {إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ…} فمن طعن فيهم فقد خالف الله ورسوله.”
(التفسير الكبير، ج25، ص 209)
اہلِ بیت کی شرافت ایسی چیز ہے جس کا انکار ممکن نہیں، اور اس پر دلیل اللہ کی یہ آیت ہے۔ پس جو ان پر طعن کرے وہ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے۔
امام قاضی عیاض رحمہ اللہ تعالیٰ
“أجمع المسلمون على وجوب توقير أهل البيت واحترامهم، ومن سبهم أو انتقصهم فهو ملعون.”
(الشفا بتعريف حقوق المصطفى، 2/40)
تمام مسلمانوں کا اجماع ہے کہ اہل بیت کی تعظیم و احترام واجب ہے، اور جو ان کو برا کہے یا ان کی تنقیص کرے وہ ملعون ہے۔
امام احمد رضا خان رحمہ اللہ تعالیٰ
“اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی محبت ایمان کی بنیاد ہے، اور ان کی توہین کرنے والا دائرۂ اہل سنت سے خارج اور ملعون ہے۔”
(فتاویٰ رضویہ، ج14، ص 403)
