نوجوان مسلمان اور خود فراموشی
- Posted by mirfanm92
- Categories Uncategorized
- Date June 21, 2026
- Comments 0 comment
نوجوان مسلمان اور خود فراموشی
قرآن و حدیث، اسلامی تعلیمات اور تاریخی واقعات کی روشنی میں
تمہید
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت، اطاعت اور زمین پر خلافت کے لیے پیدا فرمایا۔ مسلمان نوجوان امت کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔ جب نوجوان اپنے دین، اپنی تہذیب، اپنی تاریخ اور اپنے مقصدِ حیات کو بھول جاتے ہیں تو وہ “خود فراموشی” کا شکار ہو جاتے ہیں۔ آج امتِ مسلمہ کے بہت سے نوجوان مغربی تہذیب کی اندھی تقلید، سوشل میڈیا کی یلغار، مادہ پرستی اور دینی بے شعوری کے باعث اپنی اصل شناخت سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔
قرآن و سنت کی روشنی میں یہ ایک نہایت خطرناک صورتِ حال ہے، کیونکہ مسلمان کی اصل پہچان اس کا ایمان، اس کا عقیدہ اور اس کا تعلق اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے ہے۔
خود فراموشی کا قرآنی تصور
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
﴿وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللّٰهَ فَأَنْسَاهُمْ أَنْفُسَهُمْ﴾
“اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے انہیں خود اپنی جانوں کو بھلا دیا۔”
(سورۃ الحشر: 19)
امام ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
جس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے احکام کو بھلا دیا، اللہ تعالیٰ اسے اس کے اپنے فائدے اور نقصان کی پہچان سے محروم کر دیتا ہے۔
حوالہ: تفسیر ابن کثیر، سورۃ الحشر، آیت 19
یہی خود فراموشی ہے کہ انسان اپنے خالق، اپنی حقیقت اور اپنی آخرت کو بھول جائے۔
مسلمان نوجوان کی اصل شناخت
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ﴾
“تم بہترین امت ہو جو لوگوں کی بھلائی کے لیے پیدا کی گئی۔”
(سورۃ آل عمران: 110)
اسی طرح ارشاد فرمایا:
﴿وَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ﴾
“عزت تو اللہ، اس کے رسول اور مومنوں ہی کے لیے ہے۔”
(سورۃ المنافقون: 8)
یہ آیات نوجوانوں کو یاد دلاتی ہیں کہ عزت مغربی تہذیب کی نقالی میں نہیں بلکہ اسلام کی پیروی میں ہے۔
حدیث نبوی ﷺ کی روشنی میں
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے ہرگز گمراہ نہ ہو گے: اللہ کی کتاب اور میری سنت۔”
حوالہ: موطا امام مالک، کتاب القدر، حدیث: 1594
آج نوجوان جب قرآن و سنت سے دور ہوتے ہیں تو فکری اور عملی گمراہی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
نوجوانی اللہ تعالیٰ کی امانت ہے
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“قیامت کے دن بندہ اس وقت تک اپنے قدم آگے نہیں بڑھا سکے گا جب تک اس سے اس کی عمر کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے کہ کہاں گزاری، اور خصوصاً اس کی جوانی کے بارے میں کہ اسے کس کام میں صرف کیا۔”
حوالہ: سنن ترمذی، حدیث: 2417
یہ حدیث نوجوانی کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔
سلف صالحین کی نظر میں نوجوانی
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ
فرماتے ہیں:
“جوانی عبادت اور اطاعتِ الٰہی کے لیے بہترین زمانہ ہے۔”
حوالہ: حلیۃ الاولیاء، ابو نعیم الاصبہانی
نوجوان صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی مثالیں
1۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ
جب رسول اللہ ﷺ نے دعوتِ اسلام کا آغاز فرمایا تو سب سے پہلے ایمان لانے والے نوجوانوں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ شامل تھے۔
حوالہ: سیرت ابن ہشام، جلد 1
کم عمری میں ایمان لا کر انہوں نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔
2۔ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ
رسول اللہ ﷺ نے تقریباً اٹھارہ سال کی عمر میں انہیں ایک عظیم لشکر کا سپہ سالار مقرر فرمایا۔
حوالہ: صحیح بخاری، حدیث: 4469
یہ اسلام میں نوجوانوں پر اعتماد کی عظیم مثال ہے۔
3۔ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ
مکہ کے امیر ترین نوجوان تھے لیکن اسلام قبول کرنے کے بعد دنیا کی آسائشیں چھوڑ دیں۔
رسول اللہ ﷺ نے انہیں مدینہ منورہ کا پہلا داعی اور معلم بنا کر بھیجا۔
حوالہ: اسد الغابہ، جلد 5
خود فراموشی کی علامات
1۔ دینی علم سے دوری
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔”
حوالہ: سنن ابن ماجہ، حدیث: 224
آج نوجوان مختلف علوم حاصل کرتے ہیں لیکن دینی علم سے دور رہتے ہیں۔
2۔ غیر مسلم اقوام کی اندھی تقلید
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“تم ضرور اپنے سے پہلی قوموں کے طریقوں کی بالشت بہ بالشت اور ہاتھ بہ ہاتھ پیروی کرو گے۔”
حوالہ: صحیح بخاری، حدیث: 7320
3۔ دنیا کی محبت
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“دنیا کی محبت ہر خطا کی جڑ ہے۔”
حوالہ: شعب الایمان للبیہقی
اسلامی تاریخ سے سبق
اندلس کا زوال
جب مسلمانوں نے علم، تقویٰ اور جہاد کو چھوڑ کر عیش و عشرت کو اختیار کیا تو آٹھ سو سالہ اسلامی حکومت ختم ہو گئی۔
حوالہ: نفح الطیب للمقری
سقوط بغداد
1258ء میں بغداد کی تباہی سے پہلے مسلمان علمی اور اخلاقی کمزوریوں کا شکار ہو چکے تھے۔
حوالہ: البدایہ والنہایہ، امام ابن کثیر، جلد 13
خود فراموشی کا علاج
1۔ قرآن سے تعلق
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ﴾
“بے شک یہ قرآن اس راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو سب سے زیادہ سیدھا ہے۔”
(سورۃ الاسراء: 9)
2۔ نیک صحبت
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے۔”
حوالہ: سنن ابی داؤد، حدیث: 4833
3۔ مسجد سے تعلق
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“سات افراد ایسے ہیں جنہیں اللہ اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا، ان میں وہ نوجوان بھی ہے جو اللہ کی عبادت میں پروان چڑھا۔”
حوالہ: صحیح بخاری، حدیث: 660
4۔ اسلامی تاریخ کا مطالعہ
نوجوانوں کو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین، ائمہ دین اور مجاہدین اسلام کی سیرت کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ ان میں دینی غیرت اور خود اعتمادی پیدا ہو۔
نتیجہ
قرآن و حدیث کی روشنی میں واضح ہوتا ہے کہ خود فراموشی دراصل اللہ تعالیٰ کو بھولنے، اپنی اسلامی شناخت سے دور ہونے اور دنیا کو آخرت پر ترجیح دینے کا نتیجہ ہے۔ مسلمان نوجوان اگر قرآن کریم، سنتِ نبوی ﷺ، سیرتِ صحابہ رضی اللہ عنہم اور اپنے اسلاف کی تاریخ کو اپنا رہنما بنا لیں تو وہ نہ صرف اپنی شخصیت کو سنوار سکتے ہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے عروج کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمارے نوجوانوں کو ایمان کی پختگی، علمِ نافع، عملِ صالح اور دینِ اسلام کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
