لیکچر نمبر 1:عقیدہ کی تعریف، اہمیت اور ضرورت
عقائدِ اہلسنت و جماعت
لیکچر نمبر 1: عقیدہ کی تعریف، اہمیت اور ضرورت
(قرآن و حدیث کے مکمل و مستند حوالہ جات کے ساتھ)
تمہید
علمِ عقیدہ دینِ اسلام کی بنیاد ہے۔ تمام اعمال، عبادات اور اخلاق کی اصل بنیاد درست ایمان اور صحیح عقیدہ ہے۔ اہلسنت و جماعت کے نزدیک سب سے پہلا فرض درست عقیدہ سیکھنا ہے۔
عقیدہ کی لغوی تعریف
لفظ عقیدہ عربی مادہ عَقَدَ، يَعْقِدُ سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ہیں:
گرہ باندھنا، مضبوطی سے پکڑ لینا
عقیدہ کی اصطلاحی تعریف
امام سعد الدین تفتازانی رحمۃُ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں:
“العقائدُ هي الأحكامُ الشرعيةُ التي يُصدَّقُ بها القلبُ تصديقًا جازمًا”
📚 (شرح العقائد النسفیۃ، ص 10، دار الکتب العلمیۃ)
ترجمہ:
عقائد ان شرعی احکام کو کہتے ہیں جن کی دل پختہ تصدیق کرے۔
ایمان اور عقیدہ کا تعلق
📖 قرآن مجید
﴿إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ﴾
📚 سورۃ النحل، آیت: 106
ترجمہ:
“مگر وہ شخص جس پر جبر کیا گیا ہو جبکہ اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو۔”
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ ایمان (عقیدہ) دل کا عمل ہے۔
دین میں عقیدہ کی بنیادی حیثیت
1️⃣ سب سے پہلا حکم: توحید کا علم
📖 قرآن مجید
﴿فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ﴾
📚 سورۃ محمد ﷺ، آیت: 19
ترجمہ:
“پس جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔”
مفسرین فرماتے ہیں کہ اس آیت میں علمِ توحید کو عمل سے پہلے ذکر کیا گیا۔
📚 حوالہ:
-
تفسیر ابن کثیر، جلد 4، ص 194
تمام انبیاء علیہم السلام کی دعوت عقیدہ سے شروع ہوئی
📖 قرآن مجید
﴿وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ﴾
📚 سورۃ النحل، آیت: 36
ترجمہ:
“اور بے شک ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔”
اعمال کی قبولیت کا دار و مدار عقیدہ پر
📖 قرآن مجید
﴿وَمَن يَكْفُرْ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ﴾
📚 سورۃ المائدہ، آیت: 5
ترجمہ:
“اور جو ایمان کا انکار کرے تو اس کے اعمال ضائع ہو گئے۔”
نیت، ایمان اور عقیدہ
حدیثِ نبوی ﷺ
حضرت عمر بن خطاب رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں:
رسولُ اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:
“إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى”
📚 صحیح بخاری
-
کتاب: بدء الوحی
-
باب: كَيْفَ كَانَ بَدْءُ الْوَحْيِ
-
حدیث نمبر: 1
📚 صحیح مسلم
-
کتاب: الإمارة
-
باب: قوله ﷺ إنما الأعمال بالنية
-
حدیث نمبر: 1907
ائمہ اہلسنت فرماتے ہیں:
نیت کی درستگی کا تعلق بھی درست عقیدہ سے ہے۔
غلط عقیدہ کے نقصانات
1️⃣ شرک ناقابلِ معافی جرم
📖 قرآن مجید
﴿إِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ﴾
📚 سورۃ النساء، آیت: 48
2️⃣ بدعقیدگی فرقہ بندی کا سبب
حدیثِ نبوی ﷺ
رسولُ اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:
“وَسَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا وَاحِدَةً”
📚 سنن ترمذی
-
کتاب: الإيمان
-
باب: ما جاء في افتراق هذه الأمة
-
حدیث نمبر: 2640
صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنہم نے عرض کیا:
یا رسولَ اللّٰہ ﷺ! وہ کون سا فرقہ ہوگا؟
فرمایا:
“مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي”
سنن ترمذی، حدیث: 2641
مستدرک حاکم، جلد 1، ص 128 (امام حاکم: صحیح الاسناد)
اہلسنت و جماعت کے نزدیک عقیدہ کے مراجع
-
قرآن مجید
-
صحیح احادیثِ نبویہ ﷺ
-
اجماعِ صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنہم
-
ائمہ مجتہدین و ائمہ عقیدہ رحمۃُ اللّٰہ علیہم
امام ابو حنیفہ رحمۃُ اللّٰہ علیہ
“ہم قرآن، سنتِ رسول ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنہم کے اقوال کو لازم پکڑتے ہیں۔”
(الفقہ الأكبر، ص 7)
خلاصۂ لیکچر
-
عقیدہ دین کی بنیاد ہے
-
سب سے پہلے علمِ توحید سیکھنا فرض ہے
-
اعمال کی قبولیت ایمان پر موقوف ہے
-
نجات یافتہ راستہ اہلسنت و جماعت کا ہے
