لیکچر نمبر 11:عقیدۂ شفاعتِ مصطفی ﷺ
عقائدِ اہلسنت و جماعت
لیکچر نمبر 11: عقیدۂ شفاعتِ مصطفی ﷺ
تمہید
شفاعتِ مصطفی ﷺ کا عقیدہ قرآن و سنت سے ثابت اور اہلسنت و جماعت کے متفقہ عقائد میں سے ہے۔ شفاعت کا مطلب یہ ہے کہ رسولُ اللّٰہ ﷺ اور دیگر مقربینِ بارگاہِ الٰہی اللّٰہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ کے اذن سے بندوں کے حق میں سفارش کریں۔ شفاعت نہ تو اللّٰہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ کی قدرت کے خلاف ہے اور نہ اس کی توحید کے منافی۔
شفاعت کی تعریف
شفاعت یہ ہے کہ کسی مقبول بندے کی سفارش سے کسی بندے کو نفع پہنچے یا نقصان دور ہو، بشرطیکہ یہ سب اللّٰہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ کے اذن سے ہو۔
شفاعت پر قرآنی دلائل
﴿مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ﴾
سورۃ البقرۃ، آیت 255
ترجمہ: کون ہے جو اس کے پاس شفاعت کرے مگر اس کے اذن سے؟
﴿وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضَىٰ﴾
سورۃ الأنبیاء، آیت 28
ترجمہ: اور وہ شفاعت نہیں کرتے مگر اسی کے لیے جس سے اللّٰہ راضی ہو۔
شفاعتِ کبریٰ (مقامِ محمود)
﴿عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا﴾
سورۃ الإسراء، آیت 79
ترجمہ: قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں مقامِ محمود پر فائز فرمائے۔
اہلسنت و جماعت کے نزدیک مقامِ محمود سے مراد شفاعتِ کبریٰ ہے جو قیامت کے دن خاص طور پر رسولُ اللّٰہ ﷺ کو عطا ہوگی۔
حدیثِ شفاعت (تفصیلی)
رسولُ اللّٰہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن لوگ انبیاء علیہمُ السلام کے پاس شفاعت کے لیے جائیں گے، آخرکار میرے پاس آئیں گے، تو میں عرض کروں گا:
أَنَا لَهَا أَنَا لَهَا
پھر میں سجدہ کروں گا، اللّٰہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ میری حمد بیان فرمائے گا، پھر فرمایا جائے گا:
ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَسَلْ تُعْطَ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ
صحیح بخاری، کتاب الرقاق، حدیث 7440
صحیح مسلم، کتاب الإيمان، حدیث 193
ترجمہ: سر اٹھاؤ، مانگو دیا جائے گا، شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی۔
شفاعتِ مصطفی ﷺ کی اقسام
اہلسنت و جماعت کے نزدیک رسولُ اللّٰہ ﷺ کی شفاعت کی چند اقسام ہیں:
-
شفاعتِ کبریٰ (تمام امت کے لیے حساب کے آغاز پر)
-
بعض لوگوں کو بغیر حساب جنت میں داخل کرانے کی شفاعت
-
گناہ گار مسلمانوں کے لیے شفاعت
-
بعض مسلمانوں کے درجات بلند کرنے کی شفاعت
گناہ گار امتیوں کے لیے شفاعت
رسولُ اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:
شَفَاعَتِي لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي
سنن ترمذی، حدیث 2435
سنن ابن ماجہ، حدیث 4311
ترجمہ: میری شفاعت میری امت کے بڑے گناہ کرنے والوں کے لیے ہے۔
شفاعت کا انکار باطل ہے
شفاعت کا انکار کرنے والے قرآن و حدیث کی صریح نصوص کے مخالف ہیں۔ اہلسنت و جماعت کے نزدیک شفاعت کا کلی انکار گمراہی ہے۔
شفاعت اور توحید
شفاعت ماننے کا مطلب یہ نہیں کہ کسی کو اللّٰہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ کے برابر سمجھا جائے، بلکہ:
-
مالکِ حقیقی صرف اللّٰہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ ہے
-
شفاعت عطا فرمانے والا بھی وہی ہے
-
شفاعت کرنے والے محض مأذون بندے ہیں
ائمۂ اہلسنت کے اقوال
امام ابو جعفر طحاوی رحمۃُ اللّٰہِ علیہ فرماتے ہیں:
وَالشَّفَاعَةُ الَّتِي ادَّخَرَهَا لَهُمْ حَقٌّ كَمَا رُوِيَ فِي الْأَخْبَارِ
(العقيدة الطحاوية، ص 20)
ترجمہ: وہ شفاعت جو نبی ﷺ نے امت کے لیے ذخیرہ کی ہے حق ہے، جیسا کہ احادیث میں آیا ہے۔
خلاصۂ لیکچر 11
شفاعتِ مصطفی ﷺ قرآن و حدیث سے ثابت ہے؛ شفاعت اللّٰہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ کے اذن سے ہوگی؛ شفاعتِ کبریٰ خاص حضور ﷺ کو عطا ہوگی؛ گناہ گار امتی شفاعت کے مستحق ہو سکتے ہیں؛ اہلسنت و جماعت کا یہی معتدل اور حق منہج ہے۔
