لیکچر نمبر 12:عقیدۂ آخرت (موت، قبر، حشر، حساب، میزان، صراط، جنت و جہنم)
عقائدِ اہلسنت و جماعت
لیکچر نمبر 12: عقیدۂ آخرت (موت، قبر، حشر، حساب، میزان، صراط، جنت و جہنم)
تمہید
عقیدۂ آخرت ایمان کے بنیادی ارکان میں سے ہے۔ اہلسنت و جماعت کے نزدیک موت کے بعد کی تمام منازل—قبر، حشر، حساب، میزان، صراط، جنت اور جہنم—قرآن و سنت سے ثابت حقائق ہیں، جن پر ایمان لانا واجب ہے۔
موت کا عقیدہ
موت ہر ذی روح پر لازم ہے اور یہ دنیاوی زندگی کے خاتمے کا نام ہے، فنا کا نہیں۔
﴿كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ﴾
سورۃ آلِ عمران، آیت 185
ترجمہ: ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔
برزخ اور عذابِ قبر
موت کے بعد قیامت تک کے عرصے کو برزخ کہتے ہیں۔ قبر میں سوال، نعمت یا عذاب حق ہے۔
﴿النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا﴾
سورۃ غافر، آیت 46
ترجمہ: وہ آگ ہے جس پر وہ صبح و شام پیش کیے جاتے ہیں۔
حدیثِ قبر
رسولُ اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ الْقَبْرَ إِمَّا رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ أَوْ حُفْرَةٌ مِنْ حُفَرِ النَّارِ
سنن ترمذی، حدیث 2460
ترجمہ: قبر یا تو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا۔
حشر کا عقیدہ
قیامت کے دن تمام انسان دوبارہ زندہ کیے جائیں گے اور میدانِ حشر میں جمع ہوں گے۔
﴿وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمْ﴾
سورۃ الإسراء، آیت 97
ترجمہ: اور ہم قیامت کے دن انہیں ان کے چہروں کے بل جمع کریں گے۔
حساب و کتاب
ہر انسان سے اس کے اعمال کا حساب لیا جائے گا، خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے۔
﴿فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ﴾
سورۃ الزلزال، آیات 7–8
ترجمہ: جو ذرہ برابر نیکی کرے گا وہ اسے دیکھ لے گا، اور جو ذرہ برابر برائی کرے گا وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔
میزان (ترازو)
قیامت کے دن اعمال کو تولنے کے لیے میزان قائم ہوگا، جو حق ہے۔
﴿وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ﴾
سورۃ الأنبیاء، آیت 47
ترجمہ: اور ہم قیامت کے دن انصاف کے ترازو قائم کریں گے۔
صراط کا عقیدہ
پلِ صراط جہنم کے اوپر قائم ہوگا، جس سے ہر ایک کو گزرنا ہوگا۔
﴿وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا﴾
سورۃ مریم، آیت 71
ترجمہ: تم میں سے ہر ایک اس (جہنم) پر وارد ہونے والا ہے۔
حدیثِ صراط
رسولُ اللّٰہ ﷺ نے فرمایا کہ لوگ اپنے اعمال کے مطابق صراط سے گزریں گے؛ کوئی بجلی کی طرح، کوئی ہوا کی طرح، کوئی گھسٹتے ہوئے۔
صحیح بخاری، کتاب الرقاق
صحیح مسلم، کتاب الإيمان
جنت کا عقیدہ
جنت حق ہے، ہمیشہ رہنے کی جگہ ہے، جو ایمان اور نیک اعمال والوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔
﴿جَنَّاتٌ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا﴾
سورۃ التوبہ، آیت 72
ترجمہ: باغات جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔
جہنم کا عقیدہ
جہنم حق ہے، کفار اور بعض گناہ گاروں کے لیے عذاب کی جگہ ہے۔
﴿إِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا﴾
سورۃ النبأ، آیت 21
ترجمہ: بے شک جہنم گھات لگائے بیٹھی ہے۔
اہلِ ایمان کا انجام
اہلسنت و جماعت کے نزدیک:
-
مومن اگر گناہ گار ہو تو ممکن ہے سزا پا کر شفاعت یا فضلِ الٰہی سے جنت میں داخل ہو
-
کافر جہنم میں ہمیشہ رہے گا
ائمۂ اہلسنت کے اقوال
امام طحاوی رحمۃُ اللّٰہِ علیہ فرماتے ہیں:
وَالْجَنَّةُ وَالنَّارُ مَخْلُوقَتَانِ لَا تَفْنَيَانِ أَبَدًا
(العقيدة الطحاوية)
ترجمہ: جنت اور جہنم پیدا کی جا چکی ہیں اور کبھی فنا نہ ہوں گی۔
خلاصۂ لیکچر 12
موت حق ہے؛ قبر، عذاب و نعمت حق ہیں؛ حشر، حساب، میزان اور صراط حق ہیں؛ جنت و جہنم حق ہیں؛ عقیدۂ آخرت پر ایمان اہلسنت و جماعت کے بنیادی عقائد میں شامل ہے۔
