لیکچر نمبر 16:عقیدۂ اولیاءِ کرام رحمۃُ اللّٰہِ علیہم
عقائدِ اہلسنت و جماعت
لیکچر نمبر 16: عقیدۂ اولیاءِ کرام رحمۃُ اللّٰہِ علیہم
تمہید
اہلسنت و جماعت کے نزدیک اولیاءِ کرام رحمۃُ اللّٰہِ علیہم اللّٰہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ کے خاص بندے ہیں جنہوں نے ایمان و تقویٰ میں کمال حاصل کیا۔ ان کی ولایت، کرامت اور ان سے محبت قرآن و سنت سے ثابت ہے، بشرطیکہ غلو اور شرک سے اجتناب کیا جائے۔
ولی کی تعریف
ولی وہ مومن ہے جو ایمانِ کامل اور تقویٰ کے ساتھ شریعتِ محمدیہ ﷺ پر ثابت قدم ہو۔
ولایت پر قرآنی دلیل
﴿أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ﴾
سورۃ یونس، آیات 62–63
ترجمہ: سن لو! بے شک اللّٰہ کے اولیاء پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے؛ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور پرہیزگار رہے۔
ولایت کے مراتب
اہلسنت کے نزدیک ولایت کے درجات ہیں، جن کی بنیاد ایمان، تقویٰ اور اتباعِ سنت ہے۔
کرامتِ اولیاء
کرامت وہ خارقِ عادت امر ہے جو کسی ولی سے ظاہر ہو اور شریعت کے خلاف نہ ہو۔
قرآنی مثال
﴿قَالَ الَّذِي عِندَهُ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتَابِ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَن يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ﴾
سورۃ النمل، آیت 40
ترجمہ: اس شخص نے کہا جس کے پاس کتاب کا علم تھا: میں اسے پلک جھپکنے سے پہلے لے آؤں گا۔
حدیثِ ولایت
رسولُ اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:
قَالَ اللّٰهُ تَعَالَى: مَنْ عَادَىٰ لِي وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ
صحیح بخاری، حدیث 6502
ترجمہ: اللّٰہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ فرماتا ہے: جو میرے کسی ولی سے دشمنی کرے میں اس کے خلاف جنگ کا اعلان کرتا ہوں۔
اولیاءِ کرام سے محبت
اہلسنت و جماعت کے نزدیک اولیاءِ کرام رحمۃُ اللّٰہِ علیہم سے محبت سنت ہے، کیونکہ وہ دین کے خادم اور نبی کریم ﷺ کے متبع ہیں۔
اولیاءِ کرام سے توسل
اہلسنت و جماعت کے نزدیک اولیاءِ کرام رحمۃُ اللّٰہِ علیہم سے توسل جائز ہے، کیونکہ دعا اللّٰہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ ہی سے کی جاتی ہے اور ولی محض وسیلہ ہوتا ہے۔
﴿وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ﴾
سورۃ المائدہ، آیت 35
ترجمہ: اور اللّٰہ کی طرف پہنچنے کا وسیلہ تلاش کرو۔
غلو اور بدعت سے اجتناب
-
ولی کو مستقل نافع یا ضار سمجھنا — شرک
-
ولی کو نبی کے برابر یا اس سے افضل سمجھنا — باطل
-
شریعت کے خلاف کرامت ماننا — مردود
ائمۂ اہلسنت کے اقوال
امام ابو حنیفہ رحمۃُ اللّٰہِ علیہ فرماتے ہیں:
نُثْبِتُ كَرَامَاتِ الْأَوْلِيَاءِ وَنُصَدِّقُ بِهَا
(الفقه الأكبر)
ترجمہ: ہم اولیاءِ کرام کی کرامات کو ثابت مانتے ہیں اور ان کی تصدیق کرتے ہیں۔
امام شافعی رحمۃُ اللّٰہِ علیہ فرماتے ہیں:
“اولیاءِ اللّٰہ کی کرامات حق ہیں۔”
(مناقب الشافعي للبيهقي)
اولیاءِ کرام کی پہچان
-
کامل اتباعِ سنت
-
شریعت کی پابندی
-
تواضع اور خشیتِ الٰہی
-
دنیا سے بے رغبتی
خلاصۂ لیکچر 16
اولیاءِ کرام رحمۃُ اللّٰہِ علیہم حق ہیں؛ ان کی ولایت قرآن و حدیث سے ثابت ہے؛ کرامت حق ہے؛ توسل جائز ہے؛ غلو اور شرک باطل ہیں؛ اہلسنت و جماعت کا منہج اعتدال اور شریعت کی پیروی ہے۔
