لیکچر نمبر 15:عقیدۂ اہلِ بیتِ اطہار رضیَ اللّٰہُ عنہم
عقائدِ اہلسنت و جماعت
لیکچر نمبر 15: عقیدۂ اہلِ بیتِ اطہار رضیَ اللّٰہُ عنہم
تمہید
اہلسنت و جماعت کے نزدیک اہلِ بیتِ اطہار رضیَ اللّٰہُ عنہم سے محبت، احترام اور ان کے حقوق کی ادائیگی ایمان کا حصہ ہے۔ یہ محبت غلو اور جفا—دونوں سے پاک—اعتدال پر مبنی ہوتی ہے، جیسا کہ قرآن و سنت اور تعاملِ سلف سے ثابت ہے۔
اہلِ بیت کی تعریف
اہلِ بیت سے مراد بالخصوص:
-
رسولُ اللّٰہ ﷺ کی ازواجِ مطہرات رضیَ اللّٰہُ عنہن
-
حضرت فاطمہ الزہراء رضیَ اللّٰہُ عنہا
-
حضرت علی المرتضیٰ رضیَ اللّٰہُ عنہ
-
حضرت حسن رضیَ اللّٰہُ عنہ
-
حضرت حسین رضیَ اللّٰہُ عنہ
اور ان کی پاک اولاد
اہلِ بیت کی فضیلت پر قرآنی دلائل
﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾
سورۃ الأحزاب، آیت 33
ترجمہ: اللّٰہ تو یہی چاہتا ہے کہ اے اہلِ بیت! تم سے ہر ناپاکی دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے۔
﴿قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَىٰ﴾
سورۃ الشوریٰ، آیت 23
ترجمہ: فرما دیجئے! میں تم سے اس (رسالت) پر کوئی اجر نہیں مانگتا مگر قرابت داروں سے محبت۔
اہلِ بیت کی فضیلت پر احادیث
رسولُ اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:
إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ: كِتَابَ اللّٰهِ وَعِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي
صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابة، حدیث 2408
ترجمہ: میں تم میں دو گراں قدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں: اللّٰہ کی کتاب اور میری عترت یعنی میرے اہلِ بیت۔
رسولُ اللّٰہ ﷺ نے حضرت حسن اور حضرت حسین رضیَ اللّٰہُ عنہما کے بارے میں فرمایا:
هُمَا سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ
سنن ترمذی، حدیث 3768
ترجمہ: یہ دونوں جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔
ازواجِ مطہرات رضیَ اللّٰہُ عنہن کا مقام
اہلسنت و جماعت کے نزدیک ازواجِ مطہرات رضیَ اللّٰہُ عنہن اہلِ بیت میں شامل ہیں اور ان کی شان نہایت بلند ہے۔
﴿النَّبِيُّ أَوْلَىٰ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ﴾
سورۃ الأحزاب، آیت 6
ترجمہ: نبی مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتے ہیں اور ان کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں۔
اہلِ بیت سے محبت اور صحابہ سے محبت
اہلسنت و جماعت کے نزدیک:
-
اہلِ بیت سے محبت واجب ہے
-
صحابۂ کرام رضیَ اللّٰہُ عنہم اجمعین سے محبت بھی واجب ہے
-
دونوں محبتیں ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ لازم و ملزوم ہیں
غلو اور ناصبیت کا رد
اہلسنت و جماعت کا منہج:
-
غلو: اہلِ بیت کو نبی یا معصوم عن الخطا سمجھنا — باطل
-
ناصبیت: اہلِ بیت سے بغض رکھنا — گمراہی
اہلسنت کا راستہ: محبت، ادب اور اتباع
واقعۂ کربلا کا اصولی موقف
حضرت امام حسین رضیَ اللّٰہُ عنہ کی شہادت عظیم سانحہ ہے:
-
حق حضرت امام حسین رضیَ اللّٰہُ عنہ کے ساتھ تھا
-
ظالم پر لعنت اور مظلوم سے محبت اہلسنت کا موقف ہے
-
صحابۂ کرام رضیَ اللّٰہُ عنہم اجمعین پر طعن و سب سے اجتناب لازم ہے
ائمۂ اہلسنت کے اقوال
امام ابو حنیفہ رحمۃُ اللّٰہِ علیہ فرماتے ہیں:
“ہم رسولُ اللّٰہ ﷺ کے اہلِ بیت سے محبت رکھتے ہیں اور ان کے بارے میں عدل سے بات کرتے ہیں۔”
(الفقه الأكبر)
امام احمد بن حنبل رحمۃُ اللّٰہِ علیہ فرماتے ہیں:
“اہلِ بیت سے محبت سنت ہے۔”
(السنة للخلال)
اہلِ بیت کے حقوق
-
محبت اور تعظیم
-
اتباعِ شریعت
-
ان کے ذکر میں ادب
-
افراط و تفریط سے اجتناب
خلاصۂ لیکچر 15
اہلِ بیتِ اطہار رضیَ اللّٰہُ عنہم سے محبت ایمان کا حصہ ہے؛ قرآن و حدیث سے ان کی فضیلت ثابت ہے؛ ازواجِ مطہرات اہلِ بیت میں شامل ہیں؛ غلو اور ناصبیت دونوں باطل ہیں؛ اہلسنت و جماعت کا منہج محبت، ادب اور اعتدال ہے۔
