لیکچر نمبر 4:صفاتِ باری تعالیٰ — صفاتِ ذاتیہ، صفاتِ فعلیہ اور باطل نظریات کا رد
عقائدِ اہلسنت و جماعت
لیکچر نمبر 4 : صفاتِ باری تعالیٰ — صفاتِ ذاتیہ، صفاتِ فعلیہ اور باطل نظریات کا رد
تمہید
اللّٰہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ کی معرفت اس کی صفاتِ مقدسہ کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔
اہلسنت و جماعت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ:
اللّٰہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ کی صفات حق، ثابت، ازلی اور ابدی ہیں، مگر مخلوق کے مشابہ نہیں۔
اسی لیے اہلسنت:
-
نہ صفات کا انکار کرتے ہیں (تعطیل)
-
نہ صفات میں مخلوق کی مشابہت مانتے ہیں (تشبیہ)
بلکہ اثبات بلا تشبیہ اور تنزیہ بلا تعطیل کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔
صفاتِ الٰہیہ کی اصطلاحی تعریف
علامہ سعد الدین تفتازانی رحمۃُ اللّٰہِ علیہ فرماتے ہیں:
الصِّفَاتُ مَعَانٍ قَائِمَةٌ بِذَاتِ اللّٰهِ تَعَالَى
📚 (شرح العقائد النسفیۃ، ص 44، دار الکتب العلمیۃ)
ترجمہ:
صفات ایسے معانی ہیں جو اللّٰہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ کی ذات کے ساتھ قائم ہیں۔
صفاتِ باری تعالیٰ پر ایمان (قرآن سے)
📖 قرآنِ مجید
﴿هُوَ اللّٰهُ الَّذِي لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ﴾
📚 سورۃ الحشر، آیت: 22
ترجمہ:
وہی اللّٰہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ پوشیدہ اور ظاہر سب کو جاننے والا ہے۔
صفاتِ الٰہیہ کی اقسام (اہلسنت کے نزدیک)
اہلسنت و جماعت صفاتِ باری تعالیٰ کو دو بڑی قسموں میں بیان کرتے ہیں:
1️⃣ صفاتِ ذاتیہ
2️⃣ صفاتِ فعلیہ
① صفاتِ ذاتیہ
تعریف
صفاتِ ذاتیہ وہ صفات ہیں جو اللّٰہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ کی ذات کے ساتھ خاص ہیں،
نہ کسی مخلوق میں پائی جاتی ہیں اور نہ کسی حادث پر موقوف ہیں۔
اہم صفاتِ ذاتیہ
(1) صفتِ وجود
اللّٰہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ حقیقی طور پر موجود ہے، اس کے وجود میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔
📖 قرآنِ مجید
﴿أَفِي اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ﴾
📚 سورۃ ابراہیم، آیت: 10
ترجمہ:
کیا اللّٰہ کے بارے میں کوئی شک ہے، جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے؟
(2) صفتِ قِدَم (بے آغازی)
اللّٰہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ ہمیشہ سے ہے، اس کا کوئی آغاز نہیں۔
حدیثِ نبوی ﷺ
حضرت عمران بن حصین رضیَ اللّٰہُ عنہ روایت کرتے ہیں:
كَانَ اللّٰهُ وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ غَيْرُهُ
📚 صحیح بخاری
-
کتاب: بدء الخلق
-
باب: ما جاء في قول اللّٰه وهو الذي يبدأ الخلق
-
حدیث نمبر: 3191
ترجمہ:
اللّٰہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ تھا اور اس کے سوا کوئی چیز نہ تھی۔
(3) صفتِ بقاء (ہمیشگی)
اللّٰہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ ہمیشہ باقی رہنے والا ہے، فنا صرف مخلوق کے لیے ہے۔
📖 قرآنِ مجید
﴿وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ﴾
📚 سورۃ الرحمٰن، آیت: 27
ترجمہ:
اور آپ کے رب کی ذات باقی رہے گی جو جلال اور بزرگی والی ہے۔
(4) صفتِ وحدانیت
اللّٰہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ ایک ہے، یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔
📖 قرآنِ مجید
﴿وَإِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ﴾
📚 سورۃ البقرہ، آیت: 163
ترجمہ:
اور تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔
② صفاتِ فعلیہ
تعریف
صفاتِ فعلیہ وہ صفات ہیں جن کا تعلق اللّٰہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ کے افعال سے ہے،
اور جو اس کے ارادے سے ظہور پذیر ہوتی ہیں۔
اہم صفاتِ فعلیہ
(1) صفتِ خَلْق (پیدا کرنا)
📖 قرآنِ مجید
﴿اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ﴾
📚 سورۃ الزمر، آیت: 62
ترجمہ:
اللّٰہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔
(2) صفتِ رزق
📖 قرآنِ مجید
﴿إِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ﴾
📚 سورۃ الذاریات، آیت: 58
ترجمہ:
بے شک اللّٰہ ہی بڑا رزق دینے والا، قوت والا، مضبوط ہے۔
(3) صفتِ احیاء و اماتہ
📖 قرآنِ مجید
﴿يُحْيِي وَيُمِيتُ﴾
📚 سورۃ الحدید، آیت: 2
ترجمہ:
وہی زندہ کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔
صفاتِ باری تعالیٰ میں اہلسنت کا منہج
📚 امام ابو حنیفہ رحمۃُ اللّٰہِ علیہ فرماتے ہیں:
لَهُ صِفَاتٌ أَزَلِيَّةٌ لَا تُشْبِهُ صِفَاتِ الْمَخْلُوقِينَ
📚 (الفقه الأكبر، ص 11)
ترجمہ:
اللّٰہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ کی صفات ازلی ہیں، مخلوق کی صفات کے مشابہ نہیں۔
باطل نظریات کا مختصر رد
1️⃣ مشبّہہ
جو اللّٰہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ کو مخلوق جیسا مانتے ہیں — باطل
2️⃣ معطّلہ
جو صفاتِ الٰہیہ کا انکار کرتے ہیں — باطل
📚 امام ابو جعفر طحاوی رحمۃُ اللّٰہِ علیہ فرماتے ہیں:
وَمَنْ وَصَفَ اللّٰهَ بِمَعْنًى مِنْ مَعَانِي الْبَشَرِ فَقَدْ كَفَرَ
📚 (العقيدة الطحاوية، ص 14)
ترجمہ:
جس نے اللّٰہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ کو مخلوق کے کسی وصف کے ساتھ بیان کیا وہ کفر میں پڑ گیا۔
خلاصۂ لیکچر
-
صفاتِ باری تعالیٰ حق اور ثابت ہیں
-
صفات ازلی و ابدی ہیں
-
تشبیہ اور تعطیل دونوں گمراہی ہیں
-
اہلسنت و جماعت اعتدال اور سلامتی کا راستہ ہے
