لیکچر نمبر 13:عقیدۂ تقدیر (خیر و شر من اللّٰہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ)
عقائدِ اہلسنت و جماعت
لیکچر نمبر 13: عقیدۂ تقدیر (خیر و شر من اللّٰہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ)
تمہید
عقیدۂ تقدیر ایمان کے بنیادی ارکان میں سے ہے۔ اہلسنت و جماعت کے نزدیک تقدیر کا معنی یہ ہے کہ ہر چیز کا علم، لکھا جانا، چاہا جانا اور پیدا کیا جانا سب اللّٰہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ کی طرف سے ہے، مگر بندہ اپنے اختیار کے ساتھ مکلف ہے۔
تقدیر کی تعریف
تقدیر یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ نے ازل سے ہر چیز کا علم رکھا، اسے لوحِ محفوظ میں لکھا، اپنے ارادے سے اسے چاہا، اور اپنے پیدا کرنے سے وجود بخشا۔
تقدیر پر قرآنی دلائل
﴿إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ﴾
سورۃ القمر، آیت 49
ترجمہ: بے شک ہم نے ہر چیز ایک اندازے (تقدیر) کے ساتھ پیدا کی۔
﴿وَكَانَ أَمْرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقْدُورًا﴾
سورۃ الأحزاب، آیت 38
ترجمہ: اور اللّٰہ کا حکم ٹھہرایا ہوا اندازہ ہے۔
حدیثِ تقدیر
حضرت عبد اللّٰہ بن عمرو رضیَ اللّٰہُ عنہما سے روایت ہے کہ رسولُ اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:
كَتَبَ اللّٰهُ مَقَادِيرَ الْخَلَائِقِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِخَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ
صحیح مسلم، حدیث 2653
ترجمہ: اللّٰہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ نے مخلوقات کی تقدیریں آسمان و زمین کی تخلیق سے پچاس ہزار سال پہلے لکھ دیں۔
خیر و شر کا مسئلہ
اہلسنت و جماعت کے نزدیک:
-
خیر اور شر دونوں اللّٰہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ کی تقدیر سے ہیں
-
مگر شر پر راضی ہونا یا اسے پسند کرنا اللّٰہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ کی طرف منسوب نہیں کیا جاتا
-
بندہ اپنے اختیار سے گناہ کرتا ہے، اسی پر مؤاخذہ ہوگا
بندے کا اختیار
بندے کو ارادہ و اختیار دیا گیا ہے، اسی لیے شریعت کے احکام مکلف بناتے ہیں۔
﴿فَمَن شَاءَ فَلْيُؤْمِن وَمَن شَاءَ فَلْيَكْفُرْ﴾
سورۃ الکہف، آیت 29
ترجمہ: جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے۔
جبر اور قدریہ کا رد
-
جبریہ کہتے ہیں کہ بندہ مجبور ہے، یہ باطل ہے
-
قدریہ کہتے ہیں کہ بندہ خود خالقِ فعل ہے، یہ بھی باطل ہے
-
اہلسنت و جماعت کا موقف: نہ جبرِ محض، نہ اختیارِ مطلق
حدیث: عمل اور تقدیر
رسولُ اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:
اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ
صحیح بخاری، حدیث 4949
صحیح مسلم، حدیث 2647
ترجمہ: عمل کرتے رہو، ہر شخص اسی چیز کے لیے آسان کر دیا جاتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔
تقدیر پر ایمان کے ثمرات
-
دل کا سکون
-
مصیبت پر صبر
-
نعمت پر شکر
-
تکبر اور نااُمیدی سے حفاظت
ائمۂ اہلسنت کے اقوال
امام ابو حنیفہ رحمۃُ اللّٰہِ علیہ فرماتے ہیں:
وَالْقَدَرُ خَيْرُهُ وَشَرُّهُ مِنَ اللّٰهِ تَعَالَى
(الفقه الأكبر)
ترجمہ: تقدیر کا خیر و شر اللّٰہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ کی طرف سے ہے۔
خلاصۂ لیکچر 13
تقدیر پر ایمان فرض ہے؛ ہر چیز اللّٰہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ کے علم و ارادے سے ہے؛ بندہ مکلف اور صاحبِ اختیار ہے؛ جبر و قدریہ دونوں گمراہ ہیں؛ اہلسنت و جماعت کا راستہ اعتدال کا راستہ ہے۔
