لیکچر نمبر 7:عقیدۂ صحابۂ کرام رضیَ اللّٰہُ عنہم اجمعین
عقائدِ اہلسنت و جماعت
لیکچر نمبر 7: عقیدۂ صحابۂ کرام رضیَ اللّٰہُ عنہم اجمعین
تمہید
صحابۂ کرام رضیَ اللّٰہُ عنہم اجمعین وہ مقدس جماعت ہے جسے اللّٰہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ نے اپنے نبی کریم ﷺ کی صحبت کے لیے منتخب فرمایا۔ ان کی محبت ایمان، ان سے بغض نفاق اور ان کی توہین گمراہی بلکہ کفر تک لے جانے والی ہے۔ اہلسنت و جماعت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ تمام صحابہ عادل اور قابلِ احترام ہیں۔
صحابی کی تعریف
امام ابن حجر عسقلانی رحمۃُ اللّٰہِ علیہ فرماتے ہیں:
الصَّحَابِيُّ مَنْ لَقِيَ النَّبِيَّ ﷺ مُؤْمِنًا بِهِ وَمَاتَ عَلَى الْإِسْلَامِ
(الإصابة في تمييز الصحابة، ج 1، ص 7)
ترجمہ: صحابی وہ ہے جس نے نبی ﷺ سے حالتِ ایمان میں ملاقات کی اور اسلام پر ہی وفات پائی۔
صحابۂ کرام کی فضیلت (قرآن)
﴿وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ﴾
سورۃ التوبۃ، آیت 100
ترجمہ: مہاجرین و انصار میں سے سبقت کرنے والے اور جو نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کریں، اللّٰہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللّٰہ سے راضی ہوئے۔
تمام صحابہ عادل ہیں
﴿كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ﴾
سورۃ آلِ عمران، آیت 110
ترجمہ: تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے نکالی گئی۔
یہ آیت بالخصوص صحابۂ کرام رضیَ اللّٰہُ عنہم اجمعین کے حق میں نازل ہوئی۔
صحابہ سے محبت ایمان کا حصہ
حدیثِ نبوی ﷺ:
آيَةُ الْإِيمَانِ حُبُّ الْأَنْصَارِ، وَآيَةُ النِّفَاقِ بُغْضُ الْأَنْصَارِ
صحیح بخاری 17، صحیح مسلم 74
ترجمہ: انصار سے محبت ایمان کی علامت ہے اور ان سے بغض نفاق کی علامت ہے۔
صحابہ کی توہین کی ممانعت
حدیثِ نبوی ﷺ:
لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ
صحیح بخاری 3673، صحیح مسلم 2540
ترجمہ: میرے صحابہ کو گالی نہ دو، اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کر دے تب بھی ان کے ایک مُد یا آدھے مُد کے برابر نہیں ہو سکتا۔
ترتیبِ فضیلتِ صحابہ
اہلسنت و جماعت کے نزدیک صحابۂ کرام رضیَ اللّٰہُ عنہم اجمعین میں ترتیبِ فضیلت یوں ہے:
-
حضرت ابو بکر صدیق رضیَ اللّٰہُ عنہ
-
حضرت عمر فاروق رضیَ اللّٰہُ عنہ
-
حضرت عثمان غنی رضیَ اللّٰہُ عنہ
-
حضرت علی المرتضیٰ رضیَ اللّٰہُ عنہ
خلفائے راشدین کی خلافت پر دلائل
حدیثِ نبوی ﷺ:
عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ
سنن ابو داود 4607، ترمذی 2676
ترجمہ: تم پر لازم ہے میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت۔
اہلِ سنت کا منہج (صحابہ کے بارے میں)
امام ابو جعفر طحاوی رحمۃُ اللّٰہِ علیہ فرماتے ہیں:
وَنُحِبُّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللّٰهِ ﷺ وَلَا نُفْرِطُ فِي حُبِّ أَحَدٍ مِنْهُمْ وَلَا نَتَبَرَّأُ مِنْ أَحَدٍ مِنْهُمْ
(العقيدة الطحاوية، ص 18)
ترجمہ: ہم رسولُ اللّٰہ ﷺ کے صحابہ سے محبت کرتے ہیں، کسی ایک کی محبت میں غلو نہیں کرتے اور کسی سے بیزاری اختیار نہیں کرتے۔
صحابہ کے باہمی اختلافات کا مؤقف
اہلسنت و جماعت کے نزدیک صحابۂ کرام رضیَ اللّٰہُ عنہم اجمعین کے باہمی اختلافات اجتہادی تھے، ہم سب کے بارے میں خیر ہی بیان کرتے ہیں اور خاموشی اختیار کرتے ہیں۔
خلاصۂ لیکچر 7
صحابۂ کرام رضیَ اللّٰہُ عنہم اجمعین افضل، عادل اور واجب الاحترام ہیں؛ ان سے محبت ایمان اور ان کی توہین سخت گمراہی ہے؛ اہلسنت و جماعت کا منہج محبت، اعتدال اور سکوت ہے۔
