لیکچر نمبر 17:عقیدۂ بدعت (بدعتِ حسنہ اور بدعتِ سیئہ)
عقائدِ اہلسنت و جماعت
لیکچر نمبر 17: عقیدۂ بدعت (بدعتِ حسنہ اور بدعتِ سیئہ)
تمہید
بدعت کا مسئلہ فہمِ دین میں نہایت اہم ہے۔ اہلسنت و جماعت کے نزدیک ہر نیا کام بدعتِ مذموم نہیں، بلکہ بدعت کی اقسام ہیں۔ قرآن و سنت، فہمِ صحابۂ کرام رضیَ اللّٰہُ عنہم اجمعین اور ائمۂ مجتہدین رحمۃُ اللّٰہِ علیہم کی روشنی میں بدعتِ حسنہ اور بدعتِ سیئہ میں واضح فرق ہے۔
بدعت کی لغوی تعریف
بدعت لغت میں:
کسی ایسی چیز کو ایجاد کرنا جس کی پہلے مثال نہ ہو۔
﴿بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ﴾
سورۃ البقرۃ، آیت 117
ترجمہ: اللّٰہ آسمانوں اور زمین کو بے مثال پیدا کرنے والا ہے۔
بدعت کی شرعی تعریف
شرعاً بدعت اس نئے کام کو کہتے ہیں جو دین میں اس نیت سے شامل کیا جائے کہ وہ عبادت ہے اور وہ اصولِ شریعت کے خلاف ہو۔
حدیثِ بدعت (اصلی قاعدہ)
رسولُ اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هٰذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ
صحیح بخاری، حدیث 2697
صحیح مسلم، حدیث 1718
ترجمہ: جس نے ہمارے اس دین میں ایسی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں، وہ مردود ہے۔
اہلسنت کے نزدیک یہاں “ما لیس منہ” قید ہے، یعنی جو شریعت کے خلاف ہو۔
بدعت کی اقسام (اہلسنت کا موقف)
اہلسنت و جماعت کے نزدیک بدعت کی دو بڑی اقسام ہیں:
1) بدعتِ حسنہ
وہ نیا کام جو:
-
قرآن و سنت کے خلاف نہ ہو
-
کسی شرعی اصل کے تحت آتا ہو
-
دین میں خیر اور آسانی کا سبب بنے
2) بدعتِ سیئہ
وہ نیا کام جو:
-
قرآن و سنت کے خلاف ہو
-
شریعت میں تبدیلی یا کمی بیشی کرے
-
گمراہی کا سبب بنے
بدعتِ حسنہ پر حدیثی دلیل
رسولُ اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا
صحیح مسلم، حدیث 1017
ترجمہ: جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا، اس کے لیے اس کا اجر ہے اور اس پر عمل کرنے والوں کا اجر بھی۔
صحابۂ کرام رضیَ اللّٰہُ عنہم اجمعین کا عمل
حضرت عمر فاروق رضیَ اللّٰہُ عنہ نے تراویح باجماعت کے بارے میں فرمایا:
نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ هٰذِهِ
صحیح بخاری، حدیث 2010
ترجمہ: یہ کتنی اچھی بدعت ہے۔
یہ واضح دلیل ہے کہ ہر بدعت مذموم نہیں۔
بدعتِ حسنہ کی مثالیں
-
قرآنِ کریم کی باقاعدہ تدوین
-
دینی مدارس کا قیام
-
علمِ نحو، صرف، اصولِ فقہ کی تدوین
-
میلاد شریف میں نعت و ذکر (بشرطِ عدمِ خلافِ شریعت)
بدعتِ سیئہ کی مثالیں
-
عبادات کی تعداد یا کیفیت میں خود ساختہ اضافہ
-
شریعت کے خلاف رسمیں
-
قبروں کو سجدہ کرنا
-
حرام کو حلال سمجھنا
ہر نیا کام بدعت نہیں
اہلسنت کے نزدیک:
-
دنیاوی امور (جیسے قلم، کتاب، مائیک) بدعتِ شرعی نہیں
-
اصل معیار موافقت یا مخالفتِ شریعت ہے
ائمۂ اہلسنت کے اقوال
امام شافعی رحمۃُ اللّٰہِ علیہ فرماتے ہیں:
“بدعت دو قسم کی ہے: محمودہ اور مذمومہ۔ جو سنت کے خلاف ہو وہ مذموم ہے، اور جو سنت کے موافق ہو وہ محمود ہے۔”
(مناقب الشافعي للبيهقي)
امام نووی رحمۃُ اللّٰہِ علیہ فرماتے ہیں:
“بدعت پانچ اقسام پر تقسیم ہوتی ہے: واجب، مندوب، مباح، مکروہ، حرام۔”
(شرح صحیح مسلم)
بدعت اور سنت میں فرق
-
سنت: نبی کریم ﷺ کا قول، فعل یا تقریر
-
بدعتِ حسنہ: سنت کے اصول کے تحت نیا طریقہ
-
بدعتِ سیئہ: سنت کے خلاف نیا طریقہ
خلاصۂ لیکچر 17
ہر بدعت گمراہی نہیں؛ بدعتِ حسنہ اور بدعتِ سیئہ میں فرق ضروری ہے؛ صحابۂ کرام رضیَ اللّٰہُ عنہم اجمعین اور ائمۂ اہلسنت رحمۃُ اللّٰہِ علیہم بدعتِ حسنہ کے قائل ہیں؛ اصل معیار قرآن و سنت ہے؛ اہلسنت و جماعت کا منہج اعتدال پر قائم ہے۔
