لیکچر نمبر 8:عقیدۂ اہلِ بیتِ اطہار رضیَ اللّٰہُ عنہم
عقائدِ اہلسنت و جماعت
لیکچر نمبر 8: عقیدۂ اہلِ بیتِ اطہار رضیَ اللّٰہُ عنہم
تمہید
اہلِ بیتِ اطہار رضیَ اللّٰہُ عنہم رسولُ اللّٰہ ﷺ کے وہ قریبی اور پاکیزہ اہلِ خانہ ہیں جن سے محبت اور ادب رکھنا ایمان کا تقاضا ہے۔ اہلسنت و جماعت کا منہج یہ ہے کہ اہلِ بیت سے محبت بھی کی جائے اور صحابۂ کرام رضیَ اللّٰہُ عنہم اجمعین سے بھی؛ کسی ایک کی محبت میں دوسرے کی تنقیص نہ کی جائے۔
اہلِ بیت کی تعریف
اہلِ بیت میں بالخصوص یہ حضرات شامل ہیں:
-
حضرت فاطمہ زہرا رضیَ اللّٰہُ عنہا
-
حضرت علی المرتضیٰ رضیَ اللّٰہُ عنہ
-
حضرت امام حسن رضیَ اللّٰہُ عنہ
-
حضرت امام حسین رضیَ اللّٰہُ عنہ
اور ازواجِ مطہرات رضیَ اللّٰہُ عنہن بھی اہلِ بیت میں داخل ہیں۔
اہلِ بیت کی فضیلت (قرآن)
﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾
سورۃ الأحزاب، آیت 33
ترجمہ: اللّٰہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ یہی چاہتا ہے کہ اے اہلِ بیت! تم سے ہر ناپاکی دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے۔
اہلِ بیت سے محبت کا حکم
﴿قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَىٰ﴾
سورۃ الشوریٰ، آیت 23
ترجمہ: فرما دیجیے! میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر نہیں مانگتا سوائے قرابت داروں سے محبت کے۔
حدیثِ اہلِ بیت
حضرت زید بن ارقم رضیَ اللّٰہُ عنہ روایت کرتے ہیں، رسولُ اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:
أُذَكِّرُكُمُ اللّٰهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي
صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابة، حدیث 2408
ترجمہ: میں تمہیں اللّٰہ کا واسطہ دیتا ہوں میرے اہلِ بیت کے بارے میں۔
اہلِ بیت اور صحابہ میں توازن
اہلسنت و جماعت کا عقیدہ ہے کہ:
-
اہلِ بیت رضیَ اللّٰہُ عنہم سے محبت فرض ہے
-
صحابۂ کرام رضیَ اللّٰہُ عنہم اجمعین سے محبت بھی فرض ہے
-
کسی ایک کی محبت میں دوسرے کی توہین جائز نہیں
حضرت فاطمہ رضیَ اللّٰہُ عنہا کی فضیلت
رسولُ اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:
فَاطِمَةُ سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ
سنن ترمذی، کتاب المناقب، حدیث 3873
ترجمہ: فاطمہ رضیَ اللّٰہُ عنہا جنتی عورتوں کی سردار ہیں۔
حضرت حسن اور حضرت حسین رضیَ اللّٰہُ عنہما
رسولُ اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:
الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ
سنن ترمذی، حدیث 3768؛ سنن ابن ماجہ 118
ترجمہ: حسن اور حسین رضیَ اللّٰہُ عنہما جنتی جوانوں کے سردار ہیں۔
اہلِ بیت کے بارے میں غلو کا رد
اہلسنت و جماعت:
-
اہلِ بیت کو معصوم عن الخطا نہیں مانتی
-
انہیں الوہیت یا نبوت کا درجہ نہیں دیتی
-
مگر ان کی شان گھٹانا بھی حرام سمجھتی ہے
امامِ اہلسنت کا قول
امام ابو حنیفہ رحمۃُ اللّٰہِ علیہ فرماتے ہیں:
نُفَضِّلُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَنُحِبُّ عَلِيًّا وَأَهْلَ بَيْتِ رَسُولِ اللّٰهِ ﷺ
(الفقه الأكبر)
ترجمہ: ہم ابو بکر اور عمر رضیَ اللّٰہُ عنہما کو فضیلت دیتے ہیں اور علی رضیَ اللّٰہُ عنہ اور اہلِ بیتِ رسول ﷺ سے محبت رکھتے ہیں۔
خلاصۂ لیکچر 8
اہلِ بیتِ اطہار رضیَ اللّٰہُ عنہم سے محبت ایمان کا حصہ ہے؛ صحابہ اور اہلِ بیت دونوں کا ادب لازم ہے؛ غلو اور تنقیص دونوں گمراہی ہیں؛ اہلسنت و جماعت کا راستہ توازن اور عدل ہے۔
