لیکچر نمبر 14:عقیدۂ صحابۂ کرام رضیَ اللّٰہُ عنہم اجمعین
عقائدِ اہلسنت و جماعت
لیکچر نمبر 14: عقیدۂ صحابۂ کرام رضیَ اللّٰہُ عنہم اجمعین
تمہید
صحابۂ کرام رضیَ اللّٰہُ عنہم اجمعین وہ مقدس جماعت ہے جسے رسولُ اللّٰہ ﷺ کی صحبت نصیب ہوئی، انہوں نے ایمان کی حالت میں آپ ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ پر ایمان لائے اور اسی ایمان پر دنیا سے رخصت ہوئے۔ اہلسنت و جماعت کے نزدیک تمام صحابۂ کرام رضیَ اللّٰہُ عنہم اجمعین عادل، معتبر اور قابلِ احترام ہیں۔
صحابی کی تعریف
صحابی وہ ہے جو ایمان کی حالت میں رسولُ اللّٰہ ﷺ سے ملا ہو اور اسی ایمان پر اس کی وفات ہوئی ہو۔
صحابۂ کرام کی فضیلت پر قرآنی دلائل
﴿وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ﴾
سورۃ التوبہ، آیت 100
ترجمہ: سب سے پہلے ایمان لانے والے مہاجرین اور انصار اور وہ جو نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کریں، اللّٰہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللّٰہ سے راضی ہوئے۔
﴿مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ﴾
سورۃ الفتح، آیت 29
ترجمہ: محمد ﷺ اللّٰہ کے رسول ہیں، اور جو آپ کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت اور آپس میں رحم دل ہیں۔
صحابۂ کرام کی فضیلت پر احادیث
رسولُ اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:
خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ
صحیح بخاری، حدیث 3651
صحیح مسلم، حدیث 2533
ترجمہ: سب سے بہتر لوگ میرا زمانہ ہے، پھر وہ جو اس کے بعد ہیں، پھر وہ جو اس کے بعد ہیں۔
صحابۂ کرام پر طعن کا حکم
صحابۂ کرام رضیَ اللّٰہُ عنہم اجمعین پر طعن و تشنیع سخت گمراہی ہے۔
رسولُ اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:
لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي
صحیح بخاری، حدیث 3673
صحیح مسلم، حدیث 2540
ترجمہ: میرے صحابہ کو برا مت کہو۔
باہمی اختلافات کا اصول
اہلسنت و جماعت کا اصول ہے کہ:
-
صحابۂ کرام رضیَ اللّٰہُ عنہم اجمعین کے اختلافات میں خاموشی اختیار کی جائے
-
سب کو مجتہد سمجھا جائے
-
کسی پر طعن نہ کیا جائے
اہلِ بیت کا مقام
اہلسنت و جماعت اہلِ بیت اطہار سے محبت کو ایمان کا حصہ سمجھتی ہے۔
﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ﴾
سورۃ الأحزاب، آیت 33
ترجمہ: اللّٰہ تو یہی چاہتا ہے کہ اے اہلِ بیت! تم سے ہر ناپاکی دور کر دے۔
خلفائے راشدین کی ترتیب
اہلسنت و جماعت کے نزدیک فضیلت کی ترتیب:
-
حضرت ابو بکر صدیق رضیَ اللّٰہُ عنہ
-
حضرت عمر فاروق رضیَ اللّٰہُ عنہ
-
حضرت عثمان غنی رضیَ اللّٰہُ عنہ
-
حضرت علی المرتضیٰ رضیَ اللّٰہُ عنہ
ائمۂ اہلسنت کے اقوال
امام ابو زرعہ رازی رحمۃُ اللّٰہِ علیہ فرماتے ہیں:
“جب تم کسی کو رسولُ اللّٰہ ﷺ کے صحابہ کو برا کہتے دیکھو تو جان لو کہ وہ زندیق ہے۔”
(الکفاية للخطيب البغدادي)
خلاصۂ لیکچر 14
تمام صحابۂ کرام رضیَ اللّٰہُ عنہم اجمعین عادل ہیں؛ ان کی محبت ایمان اور ان سے بغض نفاق ہے؛ ان پر طعن حرام ہے؛ اہلِ بیت سے محبت واجب ہے؛ اہلسنت و جماعت کا یہی معتدل اور محفوظ عقیدہ ہے۔
