لیکچر نمبر 9:عقیدۂ اولیاءِ کرام رحمۃُ اللّٰہِ علیہم
عقائدِ اہلسنت و جماعت
لیکچر نمبر 9: عقیدۂ اولیاءِ کرام رحمۃُ اللّٰہِ علیہم
تمہید
اولیاءِ کرام رحمۃُ اللّٰہِ علیہم وہ نیک بندے ہیں جنہوں نے ایمان، تقویٰ اور اتباعِ سنت کے ذریعے اللّٰہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ کی قربت حاصل کی۔ ان سے محبت رکھنا باعثِ خیر اور انکار یا توہین کرنا گمراہی ہے۔ اہلسنت و جماعت کا منہج یہ ہے کہ اولیاء کی تعظیم کی جائے مگر انہیں مقامِ نبوت یا الوہیت نہ دیا جائے۔
ولی کی تعریف (قرآن کی روشنی میں)
﴿أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ﴾
سورۃ یونس، آیات 62–63
ترجمہ: سن لو! بے شک اللّٰہ کے دوستوں پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے؛ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کیے۔
ولایت کی بنیاد
ولایت کا مدار:
-
صحیح ایمان
-
تقویٰ
-
اتباعِ شریعتِ محمدیہ ﷺ
محض کرامت دکھانا یا غیر معمولی امور سرزد ہونا ولایت کی دلیل نہیں جب تک شریعت کی پابندی نہ ہو۔
حدیث میں اولیاءِ کرام کا مقام
رسولُ اللّٰہ ﷺ نے فرمایا (حدیثِ قدسی):
مَنْ عَادَىٰ لِي وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ
صحیح بخاری، کتاب الرقاق، حدیث 6502
ترجمہ: جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی، میں اس کے خلاف جنگ کا اعلان کرتا ہوں۔
کرامتِ اولیاء کا عقیدہ
اہلسنت و جماعت کے نزدیک اولیاءِ کرام رحمۃُ اللّٰہِ علیہم سے کرامت کا ظہور حق ہے، مگر وہ:
-
نبی نہیں ہوتے
-
معصوم نہیں ہوتے
-
شریعت کے پابند ہوتے ہیں
کرامت کی مثال (قرآن سے)
﴿كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَكَرِيَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِندَهَا رِزْقًا﴾
سورۃ آلِ عمران، آیت 37
ترجمہ: جب بھی زکریا علیہ السلام مریم کے پاس محراب میں داخل ہوتے تو ان کے پاس رزق پاتے۔
یہ حضرت مریم رضیَ اللّٰہُ عنہا کی کرامت تھی۔
اولیاء اور انبیاء میں فرق
-
نبی وحی پاتے ہیں
-
ولی وحی نہیں پاتا
-
نبی معصوم ہوتا ہے
-
ولی محفوظ (بفضلِ الٰہی) ہو سکتا ہے مگر معصوم نہیں
اولیاءِ کرام کی تعظیم کا حکم
امام ابو حنیفہ رحمۃُ اللّٰہِ علیہ فرماتے ہیں:
نُثْبِتُ كَرَامَاتِ الْأَوْلِيَاءِ وَنُصَدِّقُ بِهَا
(الفقه الأكبر)
ترجمہ: ہم اولیاء کی کرامات کو ثابت مانتے ہیں اور ان کی تصدیق کرتے ہیں۔
اولیاء کے بارے میں غلو اور تنقیص کا رد
غلو یہ ہے کہ:
-
ولی کو نبی یا خدا کا درجہ دیا جائے
-
شریعت سے بالاتر سمجھا جائے
تنقیص یہ ہے کہ:
-
اولیاء کی کرامت کا انکار کیا جائے
-
ان کی تحقیر کی جائے
دونوں راستے باطل ہیں۔
توسل اور اولیاءِ کرام
اہلسنت و جماعت کے نزدیک اولیاءِ کرام رحمۃُ اللّٰہِ علیہم کے وسیلے سے دعا مانگنا جائز ہے، مگر حاجت روا اور فریاد رسا صرف اللّٰہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ ہے۔
خلاصۂ لیکچر 9
اولیاءِ کرام رحمۃُ اللّٰہِ علیہم حق ہیں؛ ان سے محبت باعثِ خیر ہے؛ ان کی کرامات برحق ہیں؛ غلو اور انکار دونوں گمراہی ہیں؛ اہلسنت و جماعت کا منہج اعتدال ہے۔
