لیکچر نمبر 10:عقیدۂ کرامت، توسل اور استمداد
عقائدِ اہلسنت و جماعت
لیکچر نمبر 10: عقیدۂ کرامت، توسل اور استمداد
تمہید
اہلسنت و جماعت کے نزدیک کرامتِ اولیاء، توسل اور استمداد تینوں امور قرآن و سنت اور تعاملِ سلف سے ثابت ہیں، بشرطیکہ عقیدہ درست ہو: حاجت روا اور فاعلِ حقیقی صرف اللّٰہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ ہے، اور اولیاء محض سبب و وسیلہ ہیں۔
کرامت کی تعریف
کرامت وہ خارقِ عادت امر ہے جو کسی نبی کے بغیر، کسی ولی سے ظہور پذیر ہو، اور وہ شریعتِ محمدیہ ﷺ کا پابند ہو۔
امام ابو حنیفہ رحمۃُ اللّٰہِ علیہ:
نُثْبِتُ كَرَامَاتِ الْأَوْلِيَاءِ وَنُصَدِّقُ بِهَا
(الفقه الأكبر)
ترجمہ: ہم اولیاء کی کرامات کو ثابت مانتے ہیں اور ان کی تصدیق کرتے ہیں۔
کرامت پر قرآنی دلائل
﴿كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَكَرِيَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِندَهَا رِزْقًا﴾
سورۃ آلِ عمران، آیت 37
ترجمہ: جب بھی زکریا علیہ السلام مریم رضیَ اللّٰہُ عنہا کے پاس محراب میں داخل ہوتے تو ان کے پاس رزق پاتے۔
﴿قَالَ الَّذِي عِندَهُ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتَابِ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَن يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ﴾
سورۃ النمل، آیت 40
ترجمہ: اس شخص نے کہا جس کے پاس کتاب کا علم تھا: میں اسے آپ کے پاس پلک جھپکنے سے پہلے لے آؤں گا۔
کرامت اور معجزہ میں فرق
-
معجزہ نبی کے لیے، دعوائے نبوت کے ساتھ
-
کرامت ولی کے لیے، بلا دعوائے نبوت
-
دونوں اللّٰہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ کے اذن سے
توسل کی تعریف
توسل یہ ہے کہ دعا میں اللّٰہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ کے حضور کسی مقبول بندے، نیک عمل یا اسمِ الٰہی کو وسیلا بنایا جائے۔
توسل پر قرآنی دلیل
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ﴾
سورۃ المائدہ، آیت 35
ترجمہ: اے ایمان والو! اللّٰہ سے ڈرو اور اس تک پہنچنے کا وسیلہ تلاش کرو۔
توسل پر حدیثی دلیل
حضرت عثمان بن حنیف رضیَ اللّٰہُ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک نابینا شخص رسولُ اللّٰہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ ﷺ نے اسے یہ دعا سکھائی:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ
سنن ترمذی، حدیث 3578؛ سنن ابن ماجہ 1385
ترجمہ: اے اللّٰہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیرے نبی محمد ﷺ کے وسیلے سے تیری بارگاہ میں توسل کرتا ہوں۔
وفات کے بعد توسل
اہلسنت و جماعت کے نزدیک حیاتِ انبیاء علیہمُ السلام ثابت ہے اور اولیاءِ کرام رحمۃُ اللّٰہِ علیہم سے توسل جائز ہے، کیونکہ دعا اللّٰہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ ہی سے کی جاتی ہے۔
استمداد کی تعریف
استمداد یہ ہے کہ کسی نیک بندے سے مدد طلب کرنا اس عقیدے کے ساتھ کہ مدد دینے والا حقیقی طور پر اللّٰہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ ہے، اور وہ بندہ محض سبب ہے۔
استمداد پر اصولی دلیل
﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ﴾
سورۃ المائدہ، آیت 2
ترجمہ: نیکی اور تقویٰ پر ایک دوسرے کی مدد کرو۔
حدیث سے مثال
رسولُ اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:
اللّٰهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ
صحیح مسلم، حدیث 2699
ترجمہ: اللّٰہ بندے کی مدد میں رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں رہتا ہے۔
غلو اور شرک سے امتیاز
غلو یہ ہے کہ:
-
ولی کو مستقل فاعل مانا جائے
-
دعا براہِ راست ولی سے عبادت کے طور پر کی جائے
اہلسنت کا عقیدہ:
-
دعا صرف اللّٰہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ سے
-
وسیلہ و سبب انبیاء و اولیاء
ائمۂ اہلسنت کے اقوال
امام احمد بن حنبل رحمۃُ اللّٰہِ علیہ سے منقول ہے کہ وہ نبی ﷺ کے وسیلے سے دعا کو جائز سمجھتے تھے۔
(المغنی لابن قدامہ)
امام نووی رحمۃُ اللّٰہِ علیہ نے زیارتِ قبرِ نبوی ﷺ کے باب میں توسل کو مستحسن قرار دیا۔
(الأذکار)
خلاصۂ لیکچر 10
کرامتِ اولیاء حق ہے؛ توسل قرآن و حدیث سے ثابت ہے؛ استمداد سبب کے طور پر جائز ہے؛ حاجت روا اور فاعلِ حقیقی صرف اللّٰہ تعالیٰ جلَّ جلالہٗ ہے؛ غلو اور انکار دونوں باطل ہیں؛ اہلسنت و جماعت کا راستہ اعتدال ہے۔
